AsiaCalling

Home News Afghanistan سخت سرد موسم سے افغان مہاجر کیمپوں میں بچوں کی ہلاکتیں

سخت سرد موسم سے افغان مہاجر کیمپوں میں بچوں کی ہلاکتیں

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

Download 

افغانستان میں گزشتہ ماہ شدید سرد موسم کے باعث پانچ برس سے کم عمر بیس سے زائد بچے جاں بحق ہوگئے۔ یہ بچے دارالحکومت کابل میں واقع پناہ گزین کیمپ میں مقیم تھے۔اسی حوالے سے بلیٹن میں شامل ہے خصوصی رپورٹ

 



35 سالہ Lailuma کا تین ماہ کا بچہ گزشتہ ہفتے ہلاک ہوگیا تھا۔

"میرا بیٹا خان محمد سردی کے باعث مرا، وہ بہت پیارا بچہ تھا"۔

خان محمد Lailuma کا سب سے چھوٹا بچہ تھا۔

"خیمے کے اندر بہت سردی ہے، آپ دن میں تو یہاں گزارا کرسکتے ہیں مگر رات کو بہت مشکل ہوتی ہے۔ آپ کے ہاتھ اور پاﺅں برف بن جاتے ہیں اور چلنا پھرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ میرے بیٹے کو پہلے کھانسی ہوئی، مگر پھر رات کو وہ برف کی طرح جم گیا۔ ہم اسے نہیں بچا سکے۔ اب میں رات بھر نہیں سوپاتی کیونکہ مجھے اپنے باقی خاندان کی فکر ہے۔ اگر برف کے باعث چھت گرگئی تو ہم سب مارے جائیں گے"۔

Lailuma کا بیٹا رواں برس کابل میں شدید سرد موسم کے باعث جاں بحق ہونیوالا 24 واں بچہ تھا۔ تین برس قبل یہ خاندان صوبہ ہلمند سے یہاں اس وقت آیا، جب چھ بچے بیماریوں کے باعث چل بسے، اب یہ خاندان Nasaji camp کے ایک خیمے میں مقیم ہے۔

خیمے کے اندر صرف ایک کمبل ہے جس میں ماں، باپ اور واحد بچی فیروزہ نے پناہ لے رکھی ہے۔ فیروزہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کو بہت یاد کرتی ہے۔

فیروزہ(female)"وہ بہت پیارا لڑ کا تھا، جب وہ مرگیا تو میں بہت روئی تھی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مجھے کھیلنے کیلئے ایک اور بھائی دے۔ میری ماں مجھے اس کو گود میں نہیں لینے دیتی تھی، وہ کہتی تھی کہ اگر میں اسے کھیلنے کیلئے باہر لیکر گئی تو وہ بیمار ہوجائے گا"۔

شدید برفباری کے باوجود اس کیمپ میں مقیم 315 خاندان بغیر ہیٹر یا بجلی کے زندگی گزار رہے ہیں۔ وزارت صحت کے

مطابق رواں موسم سرما کے دوران کابل کے دو پناہ گزین کیمپوں میں ایک درجن سے زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔

افغانستان کو گزشتہ دہائی کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ساٹھ ارب ڈالر سے زائد کی امداد مل چکی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے

صدر حامد کرزئی نے امدادی اداروں اور دیگر ممالک سے امداد کی درخواست کی تاکہ افغان عوام کو سخت سرد موسم سے بچایا جاسکے۔ Ken Yamashita یو ایس ایڈ کے سربراہ ہیں۔

"ہم نے متعدد اقدامات کئے ہیں، سب سے پہلے ہم نے سامان کی تقسیم میں اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ سرد موسم سے بچاﺅ کا سامان تقسیم کیا جاسکے، دوسرا ہم نے اپنے شراکت دار اداروںInternational Organization for Migrationاور Save the Children وغیرہ کو اضافی فنڈز فراہم کئے ہیں، تاکہ وہ ملک بھر میں اس طرح کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے اقدامات کرسکیں"۔

شدید سرد موسم میں Lailuma اپنے خیمے کے داخلی دروازے کے سامنے جمع ہونیوالی برف کو صاف کررہی ہیں۔ انھوں نے روایتی افغان گاﺅن پہن رکھا ہے جو کاٹن سے تیار کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس گرم کپڑے یا کھانے کیلئے خوراک نہیں۔

"میں خود بھی بہت بیمار ہوں، مجھے جسم کے مختلف حصوں میں درد محسوس ہوتا ہے، اور کئی بار میں بے ہوش بھی ہوجاتی ہوں۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں آج کسی وقت رات گئے مر نہ جاﺅں"۔

افغانستان میں جنگ کے باعث ساٹھ ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جن میں سے نصف سے زائد کابل کے پناہ گزین کیمپوں میں موجود ہیں۔ Nasaji camp میں پناہ گزین رہنماءمحمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ یہ افراد سرد موسم میں مشکلات کا شکار ہیں۔

محمد ابراہیم(male)"ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ہمیں زمین فراہم کرے، جہاں ہم اپنے گھر تعمیر کرسکیں، ہمیں اسکولوں اور طبی مراکز تک رسائی دی جائے۔ ہم حکومت کیلئے بھی بطور مزدور کام کرسکتے ہیں، اور مستقل ملازمین کے مقابلے میں کم تنخواہ لیکر بھی خوش رہیں گے۔ اس سے ہماری زندگیاں بہتر ہوں گی، آخر ہم کب تک غیرملکیوں اور حکومت سے بھیک مانگ کر گزارا کرتے رہیں گے؟"

 

آخری تازہ کاری ( پیر, 20 فروری 2012 09:57 )  

Add comment


Security code
Refresh