
برما سے بیرون ملک جانیوالے بیشتر افراد ملک میں اصلاحات کے باوجود واپس آنے کیلئے تیار نہیں۔ تاہم عالمی امدادی اداروں نے ان کی امداد محدود کردی ہے، جس سے ان کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو kbr68h کی آج کی رپورٹ
25 سالہ Chae Mae اس وقت تھائی لینڈ میں واقع ایک پناہ گزین کیمپ کی ایک ورکشاپ میں دیگر خواتین کے ہمراہ سلائی کڑھائی کا کام کررہی ہیں۔
"میرے پاس گھر میں کرنے کیلئے کچھ نہیں ہوتا اس لئے میں یہاں کام کرنے آئی ہوں، تاکہ کچھ پیسے کما سکوں اور ساتھ میں ایک نئی صلاحیت کو بھی سیکھ سکوں"۔
Chae Mae دوماہ کے دوران اس کام سے 25 ڈالر کما چکی ہیں، یہ رقم اشیائے خورونوش کی خریداری پر خرچ ہوئی۔ اس کیمپ میں سلائی کا کام ہی واحد دستیاب روزگار ہے، اورChae Mae کو آٹھ گھنٹے سے بھی زیادہ کام کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ تھائی برما سرحد کے قریب واقع اس کیمپ میں مقیم افراد کو باہر جاکر کام کرنے کی اجازت نہیں۔45 سالہ Prae Mae کا کہنا ہے کہ یہاں رہنے یا وطن واپس جانے کا فیصلہ ان کے خاندان کیلئے بہت مشکل ہے۔
"میں گھر واپس جانا چاہتی ہوں، مگر وہاں جانا آسان نہیں کیونکہ برما میں ہم کچھ چھوڑ کر نہیں آئے۔ ہمارے پاس کاشتکاری کیلئے زمین نہیں، اور نہ کوئی گھر یا روزگار ہے۔ مگر یہاں رہنا بھی بہت مشکل ہے کیونکہ صرف میں اپنے خاندان کیلئے اس سلائی کے کام سے کچھ پیسے کما رہی ہوں جبکہ باقی لوگ فارغ بیٹھے ہیں"۔
Prae Mae اس کیمپ میں اپنے خاندان کے ہمراہ دس برس سے مقیم ہیں، ان کے بیمار شوہر کا انتقال کیمپ میں پہنچتے ہی ہوگیا تھا۔انھوں نے برمی فوج سے ڈر کر اپنا گھربار چھوڑا تھا۔ Prae Mae اس بارے میں بتا رہی ہیں۔
"اس وقت فوجی متعدد افراد کو گرفتار کرچکے تھے۔ ہمیں اپنے گھر میں رہتے ہوئے ڈر لگنے لگا تھا اس لئے ہم نے تھائی لینڈ آنے کا فیصلہ کیا اور ہمارے گاﺅں سے بہت سارے لوگ یہاں آگئے۔ پانچ برس قبل میرا سب
سے بڑا بیٹا واپس گھر گیا جہاں اسے فوج نے گرفتار کرکے قتل کردیا"۔
یہ سلائی کڑھائی کا مرکز Karenni National Women's Organization کے زیرتحت چلایا جارہا ہے، تاکہ کیمپ میں مقیم خواتین اور بچوں کی زندگیوں کو بہتر بنایا جاسکے۔ Rosy Htwe اس گروپ کی ترجمان ہیں۔
"ہم بے روزگار ماﺅں اور ان کے بچوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہم چاہتے ہیں کہ اس کام کے ذریعے انہیں کپڑے فراہم کئے جاسکیں، یہ خواتین اور بچے ہمارے لئے کام کرتے ہیں، جس کے بدلے ہم انہیں کچھ پیسے اور کپڑے دیتے ہیں جو وہ خود تیار کرتی ہیں"۔
چھوٹے پیمانے کے اس منصوبے میں تیس خواتین کو روزگار فراہم کیا گیا ہے، تاہم یہ این جی او اس کو توسیع دینا چاہتی ہے، تاہم اس کے ڈائریکٹر Mahm Saw کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ ممکن نظر نہیں آتا۔
"ہر بار جب ہم اس بارے میں سوچتے ہیں تو رکاوٹیں سامنے آنے لگتی ہیں۔مثال کے طور پر ہم اینٹوں کی تیاری کا کام شروع کرنا چاہتے ہیں مگر اس سے تھائی لینڈ کے مقامی افراد کا کاروبار متاثر ہوگا، اسی طرح اگر ہم مویشی پالنے یا سبزیاں اگانے کا کام کریں تو ہمیں زمین ہی دینے کیلئے کوئی تیار نہیں ہوگا"۔
اس وقت ہزاروں برمی پناہ گزین تھائی برما سرحد پر مقیم ہیں، ان کا گزر بسر عالمی امدادی اداروں کی امداد سے ہورہا ہے، جو اب اپنے بجٹ میں کٹوتیاں کررہے ہیں۔اس کیمپ کے اندر 80 بچوں کا نام اسکول میں درج کرایا گیا ہے۔Ko Han Aung کیمپ میں چلنے والے اسکول کے سربراہ ہیں۔
"ہمیں رواں برس اسکول چلانے کیلئے کچھ رقم ملی ہے، مگر مجھے نہیں معلوم کہ آئندہ برس کیا ہوگا۔ ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر ہمیں کوئی بجٹ نہ ملا تو اسکول کو کس طرح چلایا جائے گا۔اس مقصد کیلئے ہم نے پلاسٹک بنانے اور سبزیاں اگانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے فروخت کرکے ہم کچھ رقم حاصل کرسکیں گے"۔
تاہم انکا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ عرصے تک اسکول کی بقا ممکن نہیں۔
"ہمارا بنیادی انحصار امدادی اداروں کی معاونت پر ہے، ہم سبزیوں وغیرو سے فوری منافع نہیں کماسکتے۔ یہ ایک طویل المعیاد منصوبہ ہے اور اس سے آمدنی حاصل کرنے کیلئے تین سے چار برس کا عرصہ درکار ہوگا"۔










