AsiaCalling

Home News India بے کس ہندو بیواﺅں کیلئے مفت کھانا

بے کس ہندو بیواﺅں کیلئے مفت کھانا

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

Download 

بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر Vrindavan کو بیواﺅں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں بالائی طبقے کی ایسی ہندو بیوائیں رہائش پذیر ہیں جنھیں ان کے خاندانوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو kbr68hکی آج کی رپورٹ

Vrindavan میں تنہا بیواﺅں کے گھر میں دوپہر کا کھانا پیش کیا جارہا ہے۔ آج یہان چاول، سبزی، دال اور روٹی پر مشتمل مینیو ہے۔

کھانے سے پہلے خوتین کھانے پر بھگوان کا شکریہ ادا کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ غیرسرکاری فلاحی ادارے Akshaypatraکا بھی شکریہ ادا کررہی ہیں جو انہیں روزانہ مفت کھانا فراہم کرتا ہے۔ 54 سالہ پاروتی بھی ان میں سے ایک ہیں۔

پاروتی(female)" یہ کھانا بہت اچھا ہے، بھگوان مجھے سلامت رکھے"۔

گزشتہ سال تک پاروتی مندروں میں بھجن گاتی تھیں اور کئی بار کھانے کیلئے سڑکوں پر بھیک بھی مانگتی تھیں۔پاروتی کی بہو نے اپنے سسر کے انتقال کے بعد ساس کو گھر سے نکال باہر کیا تھا۔

پاروتی(female)"بہو سے ہمارا خون کا رشتہ نہیں ہوتا، اس لئے دونوں میں تعلقات بھی یکساں نہیں ہوتے۔ اچھے دنوں میں گھر کی حکمرانی میرے ہاتھ میں تھی، جو برقرار نہیں رہ سکی۔ میں مشکلات کا سامنا کررہی ہوں مگر کم از کم مجھے خوراک تک تو رسائی حاصل ہے"۔

اس جگہ ایک سو چالیس دیگر بیواﺅں کو بھی کھانا کھلایا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر کی عمریں 70 سال سے زائد ہیں۔Suvyakta Narasimha Dasa، اس مفت کھانے کے پروگرام کے انتظامی سربراہ ہیں۔

Suvyakta Narasimha Dasa(male)"ہمیں معلوم ہوا تھا کہ Vrindavanمیں متعدد بیوائیں قابل رحم زندگی بسر کررہی ہیں۔ ہم نے اس بارے یمں اس لئے غور کیا کیونکہ ہمارے ادارے کا مرکزی شعبہ ہی کھانا کھلانا ہے، ہم ضلع متھرا میں متعدد بچوں کو خوراک فراہم کرتے ہیں،اس لئے ہم نے سوچا ایسا یہاں کیوں نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ان بیواﺅں کو گزشتہ سال سے روزانہ کی بنیاد کھانا فراہم کرنا شروع کیا۔ ہم انہیں دن میں ایک بار کھانا فراہم کرتے ہیں،

یعنی ایک سال میں 365دن، جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ہمارے اندر اعتماد بڑھ رہا ہے کہ مزید لوگ آگے آکر اس شہر کی بیواﺅن کو کھانے کھلانے کی ذمہ داری قبول کریں گے"۔

Vrindavanمیں اس وقت تیس ہزار سے زائد بیوائیں رہائش پذیر ہیں۔ خواتین کے قومی کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بیوائیں انتہائی بے کسی کی زندگی بسر کررہی ہیں اور انہیں حکومتی فلاحی اسکیموں اور مناسب طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں۔خواتین کو ان کے شوہروں کی وفات کے بعد جائیداد یا دولت کے حق سے محروم کرنا بھارتی قوانین کی خلاف ورزی ہے، مگر ہندو مذہب کے تحت ایسا جائز ہے۔63 سالہ جانکی کو ان کے اپنے بیٹے سے لات مار کر گھر سے نکالا تھا۔ آنکھوں میں آنسوﺅں لئے وہ اس بارے میں بتانے کی کوشش کررہی ہیں۔

جانکی(female)"میرے شوہر طویل علالت کے بعد آٹھ ماہ قبل چل بسے تھے۔ اب میں اس دنیا میں تنہا رہ گئی ہوں۔اب مجھے زندہ رہنے کیلئے دیگر افراد پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔ اگر آپ مجھے کھانا کھلائیں گے تو ہی میں زندہ رہ سکتی ہوں، ورنہ تو مجھے سورگ کا رخ کرنا پڑیگا"۔

ایسے مراکز میں رہنے والی نصف سے زائد خواتین کا تعلق اچھے خاندانوں سے ہیں۔ ڈاکٹر Mohini Giri، خواتین کے قومی کمیشن کی سابق چیئرپرسن ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بیواﺅں کے حوالے معاشرے کے خیالات تبدیل کرنے کیلئے مناسب اقدامات نہیں ہورہے۔

Mohini Giri(female)"ابھی بھی مردوں اور معاشرے نے بیواﺅں کے بارے میں اپنے خیالات کو تبدیل نہیں کیا۔بیوہ خاتون کی معاشرے کو حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم معاشرے، مذہبی رہنماﺅں اور مردوں کے خیالات میں یہ تبدیلی لائیں تاکہ خواتین کی مزید تذلیل نہ ہوسکے"۔

دوپہر کا کھانا اب ختم ہوچکا، مگر کیا دن میں صرف ایک بار خوراک ان ضعیف خواتین کی ضروریات کیلئے کافی ہے؟

 

آخری تازہ کاری ( پیر, 22 اگست 2011 10:34 )  

Add comment


Security code
Refresh

Search