AsiaCalling

Home News India بھارت میں وچ ہنٹنگ کیخلاف جدوجہد

بھارت میں وچ ہنٹنگ کیخلاف جدوجہد

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

Download 

وسطی بھارت میں خواتین کو چڑیل قرار دے کر مارنے کا رجحان عام ہے، خصوصاً چھتیس گڑھ میں ہر سال ایسے متعدد واقعات سامنے آتے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو kbr68h کی آج کی رپورٹ

 

اتوار کی دوپہر ہونے کے باوجود یونیورسٹی کا ہال طالبعلموں سے بھرا ہوا ہے، جن میں اکثریت کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے۔

اسٹیج پر ڈاکٹر دینش مشرا ایک تجربہ کرکے دکھا رہے ہیں۔ وہ ایک این جی او کے سربراہ ہیں جو ایسی خواتین کیلئے کام کرتی ہیں جنھیں چڑیل قرار دے کر ہراساں کیا جاتا ہے۔انھوں نے ایک لیموں سفید کاغذ میں پکڑ رکھا ہے، جس کے اوپر سرخ دھبے بنے ہوئے ہیں، جس سے وہ لیموں خون جیسا نظر آرہا ہے۔

یہ چیز ان طالبعلموں کیلئے عام ہے جو دیہات سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں اکثر افراد جادو دکھانے کے دوران ایسے کرتب دکھاتے ہیں۔ ڈاکٹر دنیش بتارہے ہیں کہ یہ کوئی کالا جادو نہیں بلکہ کیمیائی ردعمل کا نتیجہ ہے۔

ڈاکٹر مشرا(male)"چھتیس گڑھ میں بیمار ہونے یا وبائی امراض پھیلنے کے بعد کالے جادو کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔اس رجحان کا سب سے بڑا سبب اندھا اعتقاد، تعلیم نہ ہونا اور شعور کی کمی ہوتی ہے،لوگ امراض سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے وہ سوچتے ہیں کہ کسی نے کالا جادو کرکے انہیں بیمار کر دیا ہے۔ ہم نے ایسے افراد سے بات کی اور بتایا کہ ہر مرض یا دیگر خرابیوں کی سائنسی وجوہات ہوتی ہیں۔ ہم نے انہیں بتایا کہ کوئی شخص کسی کے جادو سے بیمار نہیں ہوسکتا، بلکہ وہ جراثیموں کے باعث بیمار ہوتے ہیں۔ ہم نے انہیں خوردبین کے ذریعے جراثیم دکھائے اور کہا کہ وہ اپنے بچوں کی درسی کتب پڑھیں"۔

ایک نجی ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر مشرا روزانہ مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں، جن میں سے کچھ اپنے گاﺅں کے جعلی عاملوں کا شکار بن کر یہاں آتے ہیں۔

ڈاکٹر مشرا(male)"میں ایک ایسے مریض سے ملا جو فالج کے باعث چلنے پھرنے سے معذور ہوگیا تھا۔ اس کے ارگرد موجود دیہاتیوں کا ماننا تھا کہ کسی نے ان کے عزیز پر کالاجادو کردیا ہے۔ مریض ایک مقامی عامل کے پاس گیا جس نے اس کی

زندگی بچانے کا وعدہ کیا۔یہ واقعہ معلوم ہونے کے بعد میں اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں گیا تھا، جہاں لوگوں نے مجھے بتایا کہ اس کا علاج ہورہا ہے، تاہم میںنے دیکھا کہ جھاڑ پھونک کے علاوہ کوئی علاج نہیں ہورہا اور اس کے بدلے وہ دو سو سے چار سو ڈالرز ادا کررہے تھے۔ یہ بہت غریب لوگ تھے جو قرضے یا اپنے زیورات فروخت کرکے یہ رقم ادا کررہے تھے"۔

جب جعلی عاملوں سے علاج نہیں ہوپاتا تو وہ خواتین پر اس بیماری کا الزام ڈال دیتے ہیں، جس کے بعد اس خاتون کو گاﺅں والوں کی جانب سے ہراساں کیا جاتا ہے۔بھارتی اخبارات کے مطابق ملک بھر میں ہر سال دوسو سے زائد خواتین کو اس سبب قتل کردیا جاتا ہے، اور چھتیس گڑھ اس معاملے میں سب سے آگے ہے۔ اس ریاست میں 2005ءمیں اس رجحان کو روکنے کیلئے قانون منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت کسی خاتون پر جادو کرنے کا الزام عائد کرنے پر تین برس قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

چھتیس گڑھ کے ایک گاﺅں Lachkera سے تعلق رکھنے والی تین خواتین اس قانون کے ذریعے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہیں۔بارہ سال قبل اس گاﺅں کے رہائشیوں نے علاقے میں مذہبی تصادم ہونے کے بعد ان عورتوں پر کالے جادو کا الزام لگایا تھا۔Teerath Bai اس دن کا احوال بتارہی ہیں۔

"انھوں نے ہمارے سارے کپڑے اتار لئے اور انہیں جلا دیا، اس کے بعد ہمیں برہنہ کھڑا کرکے ہمارے بال مونڈ دیئے، ہم تینوں عورتیں رو رہی تھیں، اور وہاں کوئی بھی اس ظلم کو روکنے کیلئے آگے نہیں آیا، بلکہ لوگ ہمیں دیکھ کر قہقہے لگارہے تھے۔ اس کے بعد ہمیں آگ میں کودنے کا کہا گیا، مگر ہم نے انکار کردیا، جس کے بعد انھوں نے ہمیں برہنہ پورے گاﺅں میں گھمایا، اف بھگوان میں آج تک وہ سب کچھ سوچ کر شرمسار ہوں"۔

ان خواتین کو آٹھ گھنٹے تک اس غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا تاہم خوش قسمتی سے ان کی زندگیاں محفوظ رہیں، ورنہ ہر سال اس ریاست میں درجنوں خواتین ان الزامات پر ماری جاتی ہیں۔ایک مقامی این جی او کی مدد سے Teerath Bai، 2006ءمیں اپنا مقدمہ عدالت میں لے گئیں ۔ Shashi Sail مقامی این جی او کی سربراہ ہیں۔

"ریاستی قانون ایک مثبت علامت ہے، یہ خواتین کا معاون ہے۔ اس سے معاشرے پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ لوگوں کو ڈر ہوگا کہ اب وہ ایسی حرکت کریں گے تو ان کے اوپر قانون کا اطلاق ہوگا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اس قانون کے بعد کالے جادو کے نام پر ہدف بننے والی خواتین کے روئیے میں تبدیلی آئی ہے اور وہ خود کو

بے بس محسوس نہیں کررہیں۔ اب انہیں خواتین این جی اوز سے تعاون مل رہا ہے اور خواتین انصاف کی جنگ لڑنے کیلئے آگے آرہی ہیں"۔

Teerath Bai وہ پہلی خاتون ہیں جو اس طرح کی قانونی جنگ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہیں، مگر ان پر حملے کرنے کے الزام میں گرفتار 17 افراد کو محض ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔عدالت نے ان متاثرہ خواتین کو دو ہزار امریکی ڈالر دینے کی ہدایت کی تھی مگر انہیں صرف طبی اخراجات کی ہی رقم ملی ہے۔این جی او کا کہنا ہے کہ قانون کے بارے میں شعور اجاگر کرنے سے ہی حقیقی پیشرفت دیکھنے میں آئے گی۔

ڈاکٹر دینش مشرا کالے جادو کے بارے میں لوگوں کا شعور اجاگر کرنے کا کام جاری رکھنے کا عزم کررہے ہیں۔

ڈاکٹر مشرا(male)"آج ہمارے پاس متعدد پڑھے لکھے نوجوان اور مقامی رہنماءموجود ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ ہم کیا کام کررہے ہیں، مگر دیہات کا ماحول مختلف ہے، جہاں معمر افراد اہم فیصلے کرتے ہیں۔ لوگ ان معمر افراد کا احترام کرتے ہیں اور ان کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ان کٹر افراد کی مخالفت نہیں کی جاتی، اگر وہ اس بات پر اتفاق کرلیں کہ یہ عورت چڑیل ہے تو کوئی نوجوان اس کی مخالفت نہیں کرسکتا"۔

 

آخری تازہ کاری ( پیر, 20 فروری 2012 09:30 )  

Add comment


Security code
Refresh