
بھارت میں ہر سال ہزاروں بچے غائب ہوتے ہیں، سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں ہر گھنٹے کے دوران تیرہ بچے گمشدہ ہو جاتے ہیں۔ان میں سے اکثر بطور گھریلو غلام بنالئے جاتے ہیں، یا انہیں جبری مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو kbr68h کی آج کی رپورٹ
دہلی کے جنوبی علاقے بدرپور میں خواتین کا ایک گروپ دو سالہ بچی فلک کے بارے میں بات کررہا ہے۔ جو اس وقت دہلی کے پریمئیر ہسپتال میں زندگی و موت کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔ اس بچی کے ہاتھ ٹوٹ چکے ہیں، جبکہ چہرے پر گرم استری رکھ دی گئی تھی۔
یہ بات اب تک معلوم نہیں ہوسکی کہ اس بچی کی ماں کون ہے، اور کس نے اس پر حملہ کیا اور کیوں۔ مگر یہ بات بالکل واضح ہے کہ فلک ان ہزاروں بچوں میں سے ایک ہے، جو ملک بھر خصوصاً دہلی میں روزانہ غائب ہوجاتے ہیں۔ ایک خاتون شہزادی بتارہی ہیں کہ کس طرح ان کی بھانجی پانچ برس قبل دہلی سے غائب ہوگئی تھی۔
شہزادی(female)"مجھے وہ دوپہر اب تک یاد ہے جب میری بھانجی ایک تہوار کے موقع پر اپنے انکل کے گھر تحفہ لینے کیلئے گئی، مگر پھر وہ کبھی گھر واپس نہیں آئی۔ ہم نے بہت وقت اور پیسہ اس کی تلاش پر خرچ کیا،مگر کچھ نہیں ہوسکا۔ پولیس بھی اسے تلاش کرنے میں ناکام رہی"۔
شہزادی نے جو واقعہ سنایا، اس طرح کے متعدد واقعات یہاں عام ہیں، لڑکیوں پر تشدد اور سماجی ناانصافی کے باعث بھارت میں لڑکیوں کی ہلاکتوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
گزشتہ برس ہونیوالی مردم شماری کے مطابق اس وقت بھارت میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں 914 لڑکیاں ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچیوں کی زندگیوں کو بچانے کی کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیں۔پرمود کمار چوہان
Centre for Advocacy and Research نامی ادارے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ادارہ بچیوں کے تحفظ کیلئے کام کررہا ہے۔
پرمود کمار چوہان(male)"جی ہاں دہلی میں بچوں کی اسمگلنگ ہورہی ہے، خصوصاً لڑکیوں کی، جنھیں عصمت فروشی یا دیگر
وجوہات کی بناءپر اسمگل کیا جاتا ہے"۔
بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنیوالے ادارے Bachpan Bachao Andolan کی ایک رپورٹ میں انتہائی پریشان کن اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔ بھارت کے 392 اضلاع سے جمع کئے گئے اعدادوشمار سے معلوم ہوا ہے کہ جنوری 2008 سے 2010ءکے دوران ایک لاکھ بیس ہزار بچے غائب ہوئے، اس عرصے کے دوران صرف دہلی سے ہی چودہ ہزار بچے لاپتہ ہوگئے۔بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنیوالے Sheotaj Singh اس حوالے سے اپنے خیالات بتارہے ہیں۔
"یہ تعداد بہت کم ہے، یہاں سے بہت سے بچے بیرون ملک ٹریفک کردیئے جاتے ہیں، میرے خیال میں بچوں کا اغوا اب بھی دنیا کی ایک بڑی غیرقانونی صنعت ہے۔ پولیس بھی اس رجحان پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہورہی ہے"۔
Pramod Kumar Chauhan کے خیال میں اس رجحان کی وجہ لڑکیوں کو معاشرتی اہمیت حاصل نہ ہونا ہے۔
"دہلی کے عوام لڑکیوں کی عزت نہیں کرتے، جس کے منفی نتائج سامنے آرہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو ابھی تک ناپسند کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے تحفظ کا خیال نہیں کیا جاتا۔ بہت سے لوگ بچیوں کے غائب ہونے پر کچھ بھی نہیں کرتے"۔










