AsiaCalling

Home News Malaysia انور ابراہیم بدفعلی کے الزامات سے بری

انور ابراہیم بدفعلی کے الزامات سے بری

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

Download 


ملائیشیاءمیں حزب اختلاف کے رہنماءانور ابراہیم کو گزشتہ ہفتے بدفعلی کے مقدمے میں باعزت بری کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ انور اور ان کے حامیوں کے لئے حیرت انگیز تھا، کیونکہ انہیں عدالتوں پر اعتماد نہیں تھا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو kbr68h کی آج کی ریڈیو


اپنے مقدمے کے فیصلے سے ایک ہفتہ قبل ملائیشیاءکے قائد حزب اختلاف کے رہنماءانور ابراہیم ملک بھر میں عدلیہ کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ دارالحکومت کوالالمپور کے مضافات میں اپنی رہائشگاہ پر موجود انور ابراہیم کی بیٹی کی Nurul Izzah ہزاروں افراد کی موجودگی میں اپنے والد کے حق میں تقریر کررہی ہیں۔



مگر ان کی تقریر اس وقت مختصر ہوگئی جب انور ابراہیم وہاں آگئے۔

نسل پرست سیاست سے کرپشن تک انور نے ہر چیز پر تنقید کی۔
انورابراہیم(male)"ہمارا نظام غیرمنصفانہ ہے، بات صرف میرے مقدمے کی نہیں، عدلیہ، پولیس، پراسیکیوشن، حکومتی نظام سب بدعنوان ہیں، ہمیں اس میں تبدیلی لانا ہوگی۔ہمیں یہ کام Malay افراد، چینی، بھارتی اور Ibans افراد کیلئے کرنا ہوگا۔ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کیلئے ضروری ہے"۔


انور ابراہیم ہمیشہ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ان پر بدفعلی کا الزام سیاسی مخالفت کی بناءپر لگایا گیا، مگر عدالتی فیصلے سے قبل انکا کہنا تھا کہ وہ جیل میں وقت گزارنے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں۔


انور ابراہیم(male)"یہ ملائیشیاءہے اور یہاں کی عدلیہ زیادہ قابل اعتبار نہیں۔ تو ہمیں حقیقت پسند بن کر سزا کو قبول کرنا ہوگا، ہم ہر طرح کی بدترین صورتحال کیلئے تیار ہے، اور ہم ہر فیصلے کو قبول کرین گے۔جہاں تک بات پارٹی کی سیاسی قیادت کی ہے، تو انتخابات میں کامیابی کے بعد ہم اس بات کا فیصلہ کریں گے"۔
یہ دوسری بار ہے جب انور ابراہیم کو بدفعلی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے، 1998ءمیں انہیں اسی الزام کے باعث نائب وزیراعظم کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا، جس کے بعد انھوں نے جیل میں چھ برس گزارنا پڑے تھے۔ تاہم 2004ءمیں وفاقی عدالت نے سزا کے فیصلے کو منسوخ کر دیا تھا، جس کے بعد انور ابراہیم سیاست میں ایک بار پھر سرگرم ہوگئے۔


انھوں نے حزب اختلاف کا اتحاد تشکیل دیا اور 2008ءکے انتخابات میں حکمران جماعت کی اکثریت کو ماننے سے انکار کردیا۔ متعدد افراد کو توقع تھی کہ رواں برس ہونیوالے عام انتخابات سے قبل انور کو ایک بار پھر جیل بھیج دیا جائے گا، تاہم Monash یونیورسٹی کے پروفیسر James Chin کا کہنا ہے کہ سزا کا فیصلہ موجودہ وزیراعظم نجیب رزاق کے مفاد میں نہیں ہوگا۔


"نجیب آزاد عدلیہ کا کچھ کریڈٹ لے سکتے ہیں، مگر بیشتر افراد کا سوچنا ہے کہ نجیب اس خیال سے خوفزدہ تھے کہ اگر انور مجرم قرار پایا تو عام انتخابات میں اسے مشکل حالات کا سامنا ہوگا۔ اگر انور ابراہیم کو سخت سزا دی گئی تو اسے سیاسی شہید کا رتبہ مل جائے گا اور ان کی پارٹی ملک بھر میں نجیب کو ظالم کہہ کر مہم چلائے گی، کیونکہ ملائیشین عوام کی اکثریت اسے سیاسی مقدمہ سمجھتی ہے۔اگر انور کو دس برس قید کی سزا ہوئی تو اسے زیادہ افراد کی حمایت حاصل ہوجائے گی"۔
جب انور ابراہیم کو 1998ءمیں پہلی بار سزا سنائی گئی تو ملائیشین عوام کے ووٹوں میں واضح تقسیم نظر آئی، یہی وجہ ہے کہ موجودہ انتظامیہ وہی غلطی دوبارہ دوہرانے کیلئے تیار نہیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انور ابراہیم نے جج کو سراہا، تاہم انھوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ عدلیہ حکومتی اثر سے آزاد ہوگئی ہے۔اس کے بعد انھوں نے عام انتخابات کا ذکر کیا۔
انورابراہیم(male)"ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے کرپٹ قیادت کو مسترد کردیا جائے، ہمارے مشرق وسطیٰ کے دوست آج کل اپنی آزادی کیلئے انقلاب برپا کررہے ہیں، ہم بھی آزاد عدلیہ اور میڈیا چاہتے ہیں۔ ہم ملک کا بوسیدہ نظام بدلنا چاہتے ہیں، خصوصاً کرپشن کی روک تھام اور قوانین پر عمل نہ کرنے کے رجحان کو بدلنا چاہتے ہیں"۔


عدالتی فیصلے سے قبل 42 سالہ ووٹر R Nathan کا کہنا تھا کہ اگر عدالتی فیصلہ انور ابراہیم کے خلاف آیا تو ان کی طرح افراد حکومت کے مخالف ہوجائیں گے۔


"اگر انور ابراہیم کو رہا نہ کیا گیاتو حکومت کو بہت مشکلات کا سامنا ہوگا۔اب اگر انہیں جیل کے پیچھے ڈالا جاتا ہے تو حکومت اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، مگر اسے عوام کی جدوجہد کا سامنا ہوگا"۔

آخری تازہ کاری ( پیر, 16 جنوری 2012 13:08 )  

Add comment


Security code
Refresh

Search