
ملائیشیاءمیں اخلاقی پولیس فورس نے رواں برس ویلینٹائنز ڈے کے موقع پر متعدد جوڑوں کو حراست میں لیا۔ ملائیشیاءمیں اس دن کو مغربی روایت سمجھا جاتا ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو 68h کی آج کی رپورٹ
آج ویلینٹائنز ڈے ہے اور محبت کا موضوع ہر جگہ پھیلا ہوا ہے، ہم نے ملائیشین دارالحکومت کوالالمپور میں چند افراد سے اس بارے میں پوچھا، ان میں سے ایک 30 سالہ محمد سیف اللہ بھی شامل تھے۔
سیف اللہ(male)"جہاں تک میرا خیال ہے ویلینٹائنز ڈے محبت اور پیار کا دن ہے، مگر میں اسے منانا پسند نہیں کرتا، اگر میں مناﺅں بھی تو بس اس روز رات کو باہر کھانا کھانے چلا جاتا ہوں"۔
مگر انتظامیہ کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کو یہ دن منانے سے باز رہنا چاہئے اور انھوں نے انتباہ کیا تھا کہ جو لوگ ویلینٹائنز ڈے منائیں گے انہیں سزاﺅں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک این جی او سسٹرز ان اسلام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی ترجیحات ٹھیک نہیں۔نور اکمل اس این جی او کی پروگرام آفیسر ہیں۔
نور(female)"ملک میں دیگر مسائل موجود ہیں، ہم جس مقصد کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ،وہ ایسی خواتین اور بچوں کو گزارے کیلئے خرچہ دلوانا ہے، جنھیں شوہروں نے چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے ملک کے عائلی قوانین بہت قدامت پسند ہیں اور ہم ان میں اصلاحات کروانا چاہتے ہیں۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن پر فوری توجہ دی جانی چاہئے، مگر ہماری توانائی اور ذرائع بے کار مسائل جیسے ویلینٹائنز ڈے یا یوگا پر پابندی وغیرہ پر ضائع کئے جارہے ہیں۔ ہماری این جی او نے اس حوالے سے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ اخلاقی پولیس کا کردار عوام کی ذاتی زندگی کی خلاف ورزی ہے اور یہ اسلامی روح کے بھی خلاف ہے"۔
گزشتہ کئی برسوں سے ملائیشیاءمیں انتظامیہ نے ویلینٹائنز ڈے کو حرام قرار دے رکھا ہے۔
2008ءمیں قومی فتویٰ کونسل نے یوگا کو بھی ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہندومت کی علامت ہے جس سے مسلمانوں کا عقیدہ کمزور ہوسکتا ہے۔
گزشتہ برس ملائیشین ریاست Perak میں انڈونیشین poco poco رقص پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے عیسائیت
کی علامت قرار دیا گیا تھا۔ اب اس ریاست میں مقامی میڈیا میں ویلینٹائنز ڈے کے حوالے سے خبروں و اطلاعات کو روکنے کی مہم چلائی جارہی ہے اور اسے حمایت بھی مل رہی ہے۔ محمد سیف اللہ اس کی وضاحت کررہے ہیں۔
محمد سیف اللہ(male)"مذہبی تعلیمات کے حوالے سے یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، کیونکہ یہ عیسائیت کا عنصر ہے۔میرا ماننا ہے کہ یہ ہمارے عقیدے پر اثر انداز ہوتا ہے، مسلمان ہونے کے ناطے ہم قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں، اور ہمارا ماننا ہے کہ اس طرح کے دن دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں اس دن کو منانے سے روکنے کا مشورہ اچھا ہے اور اس ملک میں شرمناک سرگرمیوں کو روکا جاسکتا ہے"۔
تاہم ایک عیسائی شخص Akik Sanyol کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی قدامت پسندی کی نشانی ہے، جس سے ملائیشیاءکے کثیرالمذہبی معاشرے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
"اس طرح کے دنوںکو مسلمان، عیسائی، بھارتی اور دیگر مذاہب برسوں سے مناتے آرہے ہیں۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے منانے سے روکا جانا چاہئے، میرے خیال میں تو یہ سوچ غلط ہے کہ عیسائی کچھ کریں تو مسلمانوں کیلئے وہ چیز غلط ہوجائے گی۔ یہ بالکل غلط خیال ہے۔ میری نظر میں تو یہ سیاسی مفادات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور بس "۔
ملائیشیاءکے وزارت اطلاعات نے اس مہم میں حصہ لینے کی بجائے کثیرالمذہبی روایات کی اہمیت پر زور دیا۔ 2008ءمیں ہونیوالے عام انتخابات میں حکمران اتحاد کو پانچ ریاستوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، گزشتہ برس قدامت پسند گروپ Perkasa اور ایک اخبار Utusan Malaysia نے حزب اختلاف پر الزام لگایا تھا کہ وہ ملائیشیاءکو عیسائی ریاست بنانے کی سازش کرنے میں مصروف ہے۔ نور اکمل اس حوالے سے بتارہی ہیں۔
نور اکمل(female)"میرے خیال میں اس بات کا فیصلہ عوام کو کرنا چاہئے کہ کون کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ جب لوگ poco poco رقص کرتے ہیں تو وہ عیسائیت کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ وہ عیسائی مذہب اختیار کرلیتے ہیں، میرے خیال میں تو یہ کسی بھی چیز کو دیکھنے کیلئے بہت انتہاپسندانہ سوچ ہے۔ ملائیشیاءمیں مسلمان اور غیر مسلم دونوں موجود ہیں، میرے خیال میں اس طرح کی پابندیوں کو ہٹائے جانے پر غور کیا جانا چاہئے"۔










