AsiaCalling

Home News Pakistan پنک بسوں سے پاکستانی خواتین کا جنسی ہراسگی سے بچاﺅ

پنک بسوں سے پاکستانی خواتین کا جنسی ہراسگی سے بچاﺅ

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

Download 

پاکستان جنوبی ایشیاءکا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں خواتین کو دفاتر میں جنسی طور پر ہراساں ہونے سے بچانے کیلئے تاریخ ساز قانون منظور ہوچکا ہے، تاہم پاکستانی خواتین کو روزانہ گلیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر ہراساں ہونے کا تجربہ ہوتا ہے، تاہم اب لاہور میں ایک نئی پنک بس سروس پاکستان کی پہلی سروس ہے جو صرف خواتین کیلئے ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو kbr68h کی آج کی رپورٹ

 

لاہور میں واقع پنجاب یونیورسٹی کے باہر ایک بس خواتین مسافروں کو بس اسٹاپ سے بٹھا رہی ہے۔ یہ گلابی رنگ کی بس ہے، جو صرف خواتین کیلئے مخصوص ہے، تاہم اپنے خاندان کے ہمراہ مرد اس میں سفر کرسکتے ہیں اور اگر کوئی زبردستی سفر کرنے کی کوشش کرے تو اسے جیل کی ہوا کھانا پڑے گی۔ یونیورسٹی کی طالبہ مدیحہ شاہ بس کی ایک مسافر ہیں۔

مدیحہ شاہ(female)"میرے خیال میں یہ بہت اچھی ہے۔ یہ خیال بہت اچھا ہے کہ خواتین کو مردوں سے الگ سفر کرنیکی سہولت دی جائے، یہ ہمارے لئے بہت آرام دہ ہے۔ آپ کو معلوم ہی ہے جب مرد و خواتین ایک ساتھ سفر کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے"۔

پاکستان میں بسوں کی بڑی تعداد کے باوجود مصروف اوقات میں مرد حضرات ،خواتین کے لئے مخصوص کمپارٹمنٹ میں سفر کرتے نظر آتے ہیں، خواتین کیلئے خالی نشستیں بہت کم نظر آتی ہیں اور ان کو ہراساں کیا جانا تو معمول سمجھا جاتا ہے۔اس وقت پنک بس میں چالیس خواتین سفر کررہی ہیں، اور ابھی بھی چند سیٹیں خالی ہیں۔ بس میں سوار چند خواتین آپس میں بات چیت میں مصروف ہیں، جبکہ دیگر کتابیں پڑھنے یا موسیقی سے دل بہلا رہی ہیں۔یہ پاکستان میں خواتین کے سفر کے حساب سے ایک ناقابل تصور تھا، جسے پنجاب حکومت نے حقیقی شکل دیدی۔ حنا فاطمہ کنیز دیگر بسوں سے نفرت کا اظہار کررہی ہیں۔

حنا فاطمہ کنیز(female)"پبلک بسیں ہمیشہ مسافروں سے بھری ہوتی ہیں، اور وہ ایک دوسرے کے پاﺅں کچلتے ہوئے گزرتے ہیں۔وہاں اکثر آپ کو اپنے بیگ ہجوم میں ڈھونڈنے پڑتے ہیں، جبکہ مرد کنڈیکٹر لیڈیز کمپارٹمنٹ میں ٹکٹیں دینے کیلئے گھس آتے ہیں۔ مردوں کیلئے بسوں میں بڑا حصہ مختص ہوتا ہے اور ہمارے لئے بہت کم جگہ ہوتی ہے۔ اس حصے میں بہت دیر تک ہینڈل پکڑے کھڑے رہنا بہت مشکل کام ہے"۔

ان بسوں میں جو ایک مرد موجود ہے وہ ڈرائیور ہے، ورنہ یہاں کنڈیکٹر کا کام بھی خواتین کے ہی سپرد ہے۔

 

بس کے دروازے پر کھڑی یاسمین احمد مسافروں کو ٹکٹیں دینے اور اسٹاپس کا اعلان کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کی وردی

ایک گلابی رنگ کا روایتی لباس ہے۔

یاسمین احمد(female)"یہ بہت زبردست تجربہ ہے۔یہ خواتین میرا احترام کرتی ہیں اور میرے ساتھ خود کو زیادہ مطمئن محسوس کرتی ہیں۔ اس میں سفر کرنیوالی خواتین مختلف شعبوں میں کام کررہی ہوتی ہیں، مگر کسی نے یہ کام نہیں کیا۔ یہ ایک اور ثبوت ہے کہ خواتین دیانت دار ہیں اور وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ محنت کرتی ہیں"۔

Huma Daha اس منصوبے کی روح رواں ہیں۔

ہما(female)"میرے خیال میں ہر خاتون گلابی رنگ پسند کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب ہم نے خواتین کیلئے بس سروس کا سوچا تو اسے گلابی رنگ ہی دیا"۔

ہما لاہور میں کام کرنیوالی ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کی منیجر ہیں۔

ہما(female)"بنیادی طور پر ہم نے اس خیال کو عملی جامہ بنانے کیلئے چند سروے کئے، جس میں مختلف پہلوﺅں، جیسے شاہراﺅں پر کیسے کام ہوگا، آپریشنز کے دوران کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں وغیرہ کا جائزہ لیا گیا۔ ہم نے دیکھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنیوالی خواتین کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، ایک تو سب کو معلوم ہی ہے کہ مردوں کے مقابلے میں ان کیلئے مختص حصہ بہت چھوٹا ہوتا ہے، تو ہم نے پنک بس سروس میں اسی خیال کو بنیاد بنایا کہ خواتین کو بسوں میں سفر کیلئے زیادہ سے زیادہ جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اطمینان سے سفر کرسکیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس خیال پر جنوری میں کام شروع کرنے کی ہدایت کی اور ہم نے ابتدائی طور پر تین روٹس پر بس سروس شروع کر دی"۔

لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور اس کی آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ رکن قومی اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز نے پنک بس سروس کا افتتاح کیا۔

حمزہ شہباز(male)"پرہجوم بسوں میں مردوں کے ساتھ سفر کرنے سے خواتین کا احترام مجروح ہوتا تھا، یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت نے یہ بس سروس آزمائشی بنیادوں پر شروع کی ہے، اور ان کی تعداد میں اضافہ کرکے انہیں 500 تک لیکر جایا جائیگا"۔

اس منصوبے کے تحت خواتین کو ڈرائیونگ کی تربیت بھی دی جارہی ہے۔ ہما کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں توسیع کا انحصار اس کے مسافروں پر ہے۔

ہما(female)"ابھی پائلٹ پراجیکٹ پر کام ہورہا ہے، اور ہم پنک بس کو درپیش مشکلات کا جائزہ لے رہے ہیں، اور اس کی ضروریات کا تعین کررہے ہیں۔ اس کو مزید توسیع دینے کا انحصار مسافروں کی طلب پر ہوگا۔ زیادہ خواتین سفر کریں گی تو ہم مزید بسیں شاہراﺅں پر لائیں گے۔ اگر مسافروں کی تعداد کم رہی تو پھر ہم موجودہ تعداد کو ہی برقرار رکھیں گے"۔

بیشتر خواتین نے اپنے لئے مخصوص ٹرانسپورٹ سروس کو سراہا ہے تاہم خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنیوالی ممتاز مغل کی سوچ

مختلف ہے۔

ممتاز مغل(female)"یہ جنسی امتیاز ہے، ہمارے قدامت پسند معاشرے میں مردوں و عورتوں کے مشترکہ سفر کو برا سمجھا جاتا تھا، اس لئے بسوں میں ان کے لئے علیحدہ حصے بنائے گئے، اور اب اس سوچ کو تبدیل کرنے کی بجائے حکومت نے محض خواتین کیلئے بسیں چلا کر اس سوچ کو مزید تقویت دیدی ہے۔ میرے خیال میں تو بنیادی چیز یہ ہے کہ معاشرتی سوچ کو تبدیل کیا جانا چاہئے"۔

مگر اسکول کی استاد فوزیہ جمیل کا کہنا ہے کہ وہ بہت خوش ہیں اور اب وہ روزانہ آرام سے سفر کر رہی ہیں۔

فوزیہ جمیل(female)"یہ بس بہت اچھی ہے، کیونکہ پبلک بسوں میں لڑکے ہمیں بہت تنگ کرتے تھے، وہ ہمیں بسوں کے اندر چھیڑتے تھے، اب میں زیادہ سکون اور محفوظ سفر کرسکتی ہوں، اور بس کے اندر اپنی سہلیوں سے بات چیت کرسکتی ہوں۔ عام بسیں بہت تیزی سے گزر جاتی ہیں، مگر یہ بس ہمارے لئے زیادہ محفوظ ہے"۔

آخری تازہ کاری ( پیر, 20 فروری 2012 09:37 )  

Add comment


Security code
Refresh